زندگی کی رفتار میں خود شناسی کا سفر

زندگی کی رفتار میں خود شناسی کا سفر

{سمیہ بنت عامر خان }





{قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا}

(سورۃ الشمس: 9–10)

یقیناً وہی کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو سنوارا، اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے دبا دیا۔


گزرتا سال گزر ہی گیا—کچھ روشن لمحوں کو دامن میں سمیٹے، کچھ اداس یادوں کو آنکھوں میں اُتارے ہوئے۔ کبھی یہ سال دھنک کی طرح رنگین رہا، کبھی تیز دھوپ بن کر جلاتا رہا اور کبھی سایہ بن کر

دل پر ہاتھ رکھتا رہا۔ یہ سانسیں، یہ زندگی، گویا سات رنگوں میں گندھی ہوئی ایک مسلسل آزمائش ہے؛ کہیں پت جھڑ، کہیں روکھی راہیں، کہیں پتھر کی سی سختی اور کہیں موم جیسی نرمی۔ اور انہی لمحوں کے بیچ یہ احساس گہرا ہوتا چلا جاتا ہے کہ اصل کامیابی وقت کی رفتار میں آگے بڑھ جانا نہیں، بلکہ خود کو سنوار کر، خود کو سنبھال کر چلنا ہے—کہ انسان اپنی ذات کو نہ دبائے، نہ فراموش کرے، بلکہ اسے پہچان کر ذمہ داری کے ساتھ زندگی کے سفر میں شامل رکھے۔


یہ سانسیں، یہ زندگی، واقعی سات رنگوں میں گندھی ہوئی ہے۔ کبھی پت جھڑ کے ویران موسم، کبھی روکھی پھیکی راہیں، کبھی ماشا اور کبھی تولہ،کبھی پتھر کی سی سخت اور کبھی موم جیسی نرم۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی بہت تیز، حد سے زیادہ تیز چل پڑی ہو۔ لمحے ہاتھ سے پھسلتے جاتے ہیں اور ہجوم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان خود کو کہیں پیچھے چھوڑ آتا ہے۔ بس اسی ہجوم میں خود کو سنبھالنا ہی سب سے بڑی جدوجہد بن جاتا ہے۔

اور جانتے ہو، خود کو سنبھالنا کیا ہوتا ہے؟

خود کو سنبھالنا یہ ہے کہ انسان خود کو پیچھے نہ ڈالے، خود سے آنکھیں نہ چرائے، اپنے وجود سے نظریں نہ ہٹائے۔ اپنی ذمہ داری کو بوجھ نہیں، امانت سمجھے اور اپنی قدر کو کسی اور کے پیمانے سے نہ تولے۔ خود کو سنبھالنا یہ بھی ہے کہ حقوقُ اللہ ادا کرتے ہوئے حقوقُ العباد کا خیال رکھا جائے، مگر اس سارے سفر میں اپنی ذات کو بالکل فراموش نہ کر دیا جائے۔


یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت انسان کو سہارا دیتی ہے۔ نماز محض ایک فریضہ نہیں رہتی، بلکہ زندگی کی بے ترتیبی میں ترتیب بن جاتی ہے۔ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں رہتا، بلکہ دل کا چراغ بن جاتا ہے۔ کیونکہ عبادت کے بغیر خود شناسی بھی ادھوری رہتی ہے، اور خود شناسی کے بغیر زندگی کا توازن بکھرنے لگتا ہے۔

قرآن ہمیں یہی توازن سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا﴾ (القصص: 77)

یعنی جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے، اس میں آخرت کا گھر تلاش کرو، اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھولو۔


یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دین اور دنیا، عبادت اور زندگی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ ایک کو تھام کر دوسرے کو چھوڑ دینا دانائی نہیں، بلکہ توازن کھو دینے کے مترادف ہے۔

نبی کریم ﷺ نے بھی اسی اعتدال کی تعلیم دی:

“إِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا” (بخاری)

یعنی تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔

خود کو نظرانداز کرنا دین داری نہیں، بلکہ خود کو اس کے حق سے محروم کرنا ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

اپنی ذات کو پہچاننا غرور نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو ماننا، اپنی تھکن کو سمجھنا اور اپنی حدوں کو پہچاننا۔ یہ سب خودی کی حفاظت کے زمرے میں آتا ہے۔


نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پہچانیں۔ ہر رشتے، ہر کردار، ہر ذمہ داری سے پہلے یہ مان لیں کہ ہم ایک انسان ہیں۔ ہماری بھی تھکن ہے، ہماری بھی ضرورتیں ہیں۔ ترجیحات کے لیے وقت نکالنا خود غرضی نہیں، بلکہ خود کو بچانے کا عمل ہے۔ کیونکہ جو خود کو سنبھال لے، وہی دوسروں کے لیے سہارا بن سکتا ہے۔


شاید نئے سال کا سب سے بڑا عہد بھی یہی ہونا چاہیے کہ زندگی چاہے جتنی تیز کیوں نہ چلے، ہم اپنے آپ کو پیچھے چھوٹنے نہ دیں۔ اپنے وجود، اپنی ذمہ داری اور اپنی قدر کو پہچانیں۔ اپنی عبادات، اپنے اخلاق، اپنی ذمہ داریاں اور اپنی ذات کسی کو بھی پیچھے نہ چھوڑیں۔ یہی توازن، یہی خود شناسی، اور یہی اصل کامیابی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے