* صلہ رحمی کی اہمیت*
"صلہ رحمی"۔۔۔۔۔ صلہ رحمی کا مطلب ہے رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا، یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اپنی ہمت کے مطابق ان کا مالی تعاون کرنا، انکی خدمت کرنا، ان سے ملاقات کے لئے جاتے رہنا وغیرہ غرض یہ کہ رشتہ داروں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا اور ان کی ہمدردی و خیر خواہی کے جذبات سے سرشار رہنا۔
قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ﷲ کی عبادت و بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور قرابت داروں سے بھی حسن سلوک کرو۔"
(سورہ نساء)
یعنی ﷲ کی توحید اور والدین کی اطاعت کے حکم کے ساتھ جس چیز کا حکم دیا گیا وہ یہی صلہ رحمی ہے۔ صلہ رحمی ایک پرسکون اور آرام دہ معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔ اسلام انسانوں کے لئے ایک انتہائی باہمی رحم و کرم اور عطف و مہربانی والا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کی بنیاد محبت و بھائی چارگی ہے۔ ایسا معاشرہ و سماج ہو جس میں خیر و بھلائی، سخاوت اور عطا و کرم کا راج ہو۔ خاندان معاشرے کی اکائی ہوتا ہے جس طرح ریاضی میں اکائی کا ہونا نہایت ضروری ہے جس کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا اسی طرح ایک مضبوط معاشرہ، مضبوط خاندان کے بغیر تعمیر نہیں ہوتا اور یہ مضبوط خاندان ﷲ کے خوف و تقویٰ اور صلہ رحمی کے نتیجے میں قائم ہوتا ہے اور ایسا خاندان سعادت و خوشحالی پاتا ہے۔ اسلام نے خاندان کی جڑیں مضبوط کرنے اور اس کی عمارت و بنیاد کو پائیدار بنانے کا خاص اہتمام کیا ہے۔
قرآن میں رشتہ داروں کا پاس و لحاظ رکھنے والوں کو اولو الالباب (دانش مند) کہا گیا ہے۔ ان کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہے ان میں یہ بھی ہے کہ "ان کی روش یہ ہوتی ہے کہ ﷲ نے جن جن رشتوں کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا ڈر و خوف رکھتے ہے کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔"( سورۃ الرعد ٢١)
رشتے داروں سے حسن سلوک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر والدین کے فوراً بعد رشتے داروں کا تذکرہ آیا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ البقرہ آیت ٨٣ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اور والدین اور رشتے داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔" احادیث نبوی میں بھی صلہ رحمی کی بہت تاکید کی گئی ہے اور قطع رحمی سے ڈرایا گیا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: "رحم عرش کو پکڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہے جو مجھے جوڑے ﷲ اسے (اپنے سے) جوڑے اور جو مجھے کاٹ دے ﷲ اسے(اپنے سے) کاٹ دے۔"( صحیح بخاری۔ 5989)
اسلام نے آدمی کو رشتہ داروں کے ساتھ ہر حال میں اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین کی ہے، خواہ ان کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہ ہو اور وہ رشتہ کا پاس لحاظ نہ رکھتے ہو۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرماتے ہے کہ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو احسان کا بدلہ احسان سے دے، بلکہ دراصل صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے جس کے رشتے دار اس سے تعلق نہ رکھیں لیکن وہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ (بخاری -5991)
نبی اکرم ﷺ نے عبادات میں توحید، نماز و زکوٰۃ کے ساتھ ہی صلہ رحمی کو بھی شامل فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ﷲ کی عبادت کرو اور اس کےساتھ شریک نہ کرو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی ( رشتوں کو قائم) کرو۔ ( متفق علیہ)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو اسے صلہ رحمی کرنے چاہیے۔" ( بخاری 5984)
اس کے علاوہ رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کے معاملے میں اسلام نے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ کسی شخص کے رشتے دار اگر غیر مسلم ہو تو وہ بھی اس کے حسن سلوک کے مستحق ہیں۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ کی ماں مشرک تھیں وہ ان سے ملنے کے لئے مدینہ آئیں۔ حضرت اسماء ؓ نے آپﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟؟؟ اور انھیں کچھ دے سکتی ہوں؟؟؟ آپﷺ نے جواب دیا: ہاں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ (بخاری 5978)
صلہ رحمی یہ تعمیر خاندان، تعمیر حیات میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اہل و عیال اور خاندان کے ساتھ محبت کرنا رزق میں کشادگی اور عمر میں درازی کا ذریعہ ہے۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صلہ رحمی اہل و عیال اور اہل خاندان میں آپسی محبت، مال میں فراوانی اور عمر میں درازی کا باعث ہوتی ہے( مسند احمد) اسی طرح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ "جسے یہ بات خوش گوار لگے کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو اور اس کی عمر دراز ہو، اسے صلہ رحمی کرنے چاہیے۔"
اسلام میں صدقہ و خیرات کو اہم مقام دیا گیا ہے اور اس پر ﷲ تعالیٰ کی جانب سے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے کسی غریب رشتے دار کو صدقہ دے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ حضرت سلمان بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا " کسی غریب کو صدقہ دینے کا ایک اجر اور کسی رشتے دار کو صدقہ دینے کا دوہرا اجر ہے۔ ایک صدقہ دینے کا اور دوسرا رشتہ داری نبھانے کا۔" ( ترمذی : 458)
رشتے یہ بہت نازک ڈور سے بندھے ہوتے ہیں۔ یہ جسم میں روح کی طرح ہوتے ہیں جو احساس م سلوک پر مبنی ہوتے ہیں۔ احساس کی یہ ڈور اس طرح مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے جیسے دھاگوں میں پروئی ہوئی موتیاں کہ ہر آنے والے رشتے کو اپنے اندر پرولیتی ہے جیسے موتیاں دھاگوں میں پروئی جاتی ہے اور ایک خوبصورت ہار تیار ہوتا ہے۔ جہاں یہ نازک سی ڈور ٹوٹتی ہے تو ساری موتیاں بکھر جاتی ہے اسی طرح رشتوں میں کمزوری کی وجہ سے رشتوں کی ڈور بکھر جاتی ہے۔ جانتے ہو یہ رشتوں کی نازک ڈور کس طرح ٹوٹ جاتی ہے...؟؟؟ یہ بدگمانیوں، غلط فہمیوں، قطع رحمی، بے حسی کی وجہ سے رشتوں کی موتیاں بکھر جاتی ہے اور رشتوں کی فون کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ اس طرح مان جیسے مکڑی کا جالا ہو جو ہلکی سی ہوا کی زد میں آکر ٹوٹ جاتا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ رشتوں میں صلہ رحمی کی اہمیت باغ میں پھول کے مترادف ہے، جیسے باغ میں لگے پھولوں کی حفاظت کرنی ہوتی ہے اسی طرح رشتوں میں صلہ رحمی کو اہمیت دینی ہوتی ہے کیونکہ ذرا سی کوتاہی ، غلط رویہ، لاپرواہی ان کو ٹہنی سے جدا کردیتی ہے۔ رشتے خون کے ہو یا احساس کے یہ کانٹوں سے بھری جھاڑیوں کے درمیان ہوتے ہے۔ رشتوں کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویے میں نرمی، جھکاؤ، صلہ رحمی، برداشت جیسے پھولوں کی حفاظت کرے اور خار دار جھاڑیوں یعنی مزاج میں گرمی، لہجے میں سختی، حسد، بغض، کینہ اور تکبر جیسے خاردار جھاڑیوں سے اجتناب کرے تاکہ مضبوط خاندان تعمیر ہو۔
جس کسی رشتے دار کے ساتھ کوئی عداوت یا دشمنی چل رہی ہو اسے چاہیے کہ حسن اخلاق سے پیش آۓ صلہ رحمی شروع کردیں، معاف کردیں اور اپنے دل کو دشمنی اور عداوت سے صاف کرلے کیونکہ جس نے معاف کردیا اور صلح کرلی اس کا اجر و ثواب ﷲ کے پاس ہے۔
حسن اخلاق کا صلہ رحمی میں بڑا عمل دخل ہوتا ہے قرابت داروں کے ساتھ ادب اور حسن سلوک سے پیش آۓ کیونکہ جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور زبان کی حفاظت کرلی اس نے نفس کو راحت و سکون میں رکھ لیا۔ رشتے خون کے ہو یا احساس کے ان کی گہرائی کا احساس الفاظ سے نہیں برتاؤ اور رویوں سے ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔بنے رشتوں کا یہ تناور شجر محبت بھروسے اور اخلاص سے ہی۔۔۔۔۔

0 تبصرے