"استاد "

 

"استاد "

(سمیہ بنت عامر خان )






جب زندگی اندھیروں میں ڈوبی ہو، 

جب جہالت کا دھواں چاروں طرف چھایا ہو،

جب ذہن الجھنوں کا شکار ہو،

تب... ایک چراغ جلتا ہے!

ایک شمع فروزاں ہوتی ہے!

ایک شخصیت اُبھر کر سامنے آتی ہے...

جسے ہم "استاد" کہتے ہیں!

وہی استاد!

جو علم کی روشنی سے اندھیروں کو مٹاتے ہیں،

جو خاموش جذبوں کو لفظوں میں ڈھالتے ہیں،

جو بکھرے ذہنوں کو ترتیب دیتے ہیں،

اور... جو راہوں میں امیدوں کے دیے جلاتے ہیں!

جی ہاں!

یہی تو ہوتے ہیں ہمارے استاد!

جو محنت سے پڑھاتے ہیں،

اپنا وقت، اپنی توانائیاں ہم پر نچھاور کرتے ہیں،

اور کبھی شکایت کا ایک لفظ زبان پر نہیں لاتے۔

ہمارے استاد...

"م" سے محبت،

"ع" سے علم،

"ل" سے لگن،

اور "م" سے معاونت کا پیکر ہوتے ہیں!

وہ نہ صرف ہمیں کتابی علم سکھاتے ہیں،

بلکہ ہمیں جینے کا سلیقہ دیتے ہیں،

تہذیب، اخلاق، ضبط، وقار،

یہ سب کچھ... انہی کی عطا ہے۔

استاد... صرف پڑھانے والا نہیں ہوتا!

وہ کبھی مبلغ ہوتا ہے،

کبھی رہنما،

کبھی مسیحا،

اور اکثر، ایک خاموش دعاؤں کا امین!

وہ دل سے ہماری ترقی کی دعا کرتے ہیں،

ہمیں آدمی سے انسان بناتے ہیں،

اور سچ تو یہ ہے...

کہ اگر استاد نہ ہو،

تو دنیا میں کوئی بھی مہذب نہ ہو!

لہٰذا،

ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد!

ہاں! واقعی...

ایسے ہوتے ہیں ہمارے استاد!

اور آخر میں...

میں ربِّ کریم سے بس یہی دعا کرتی ہوں

کہ وہ ہمارے ان محسنوں کو

ہمیشہ شاد و آباد رکھے،

انہیں صحت، عزت اور کامیابی عطا فرمائے،

اور ان کی روشنی،

ہمیشہ ہمیں منزل دکھاتی رہے!


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے