تو تو شہ رگ کے پاس تھا لیکنطے ہمیں سے یہ فاصلہ نہ ہوا
ہم بھی کتنے بے حس اور بے وقوف انسان ہے نا جب دل میں کوئی غم کا احساس ہو تو اسے اپنے قریبی دوست کو یا اپنے کسی بہت قریبی کو ہی بتاتے ہے۔ اور سوچتے ہے چلو دل سے بوجھ تو ہلکا ہوا، یہ دل تھوڑا غم سے آزاد تو ہوا پر اس وقت یہ بھول جاتے ہے کہ یہ دنیا اور یہاں کے رنگین لوگ یعنی ایسے لوگ جو پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہو، جو خود کے مطلب کے لئے تو ہمیں اپنا جانے، جو ہماری پریشانی کو صرف اپنی خوشی اور مزے کے لئے جاننا چاہتے ہو جن کا صرف ایک ہی مقصد ہو کہ وہ تمہاری اس پریشانی کو دنیا جہان میں عام کردے ۔ ایسے لوگوں کو ہم اپنا قریبی ، اپنا رازدہ ، اپنا secret partner کہتے ہیں۔۔۔۔۔
اور اس قریبی کو تو بھول ہی جاتے ہے جو ہمارا ان سب سے بھی زیادہ قریبی ہوتا ہے، جو ہمارے غم، ہماری مشکل کو سن کر بھی لوگوں میں عیاں نہیں کرتا ہمارے راز کو راز ہی رکھتا ہے اور ہمیں ان پریشانیوں ان غموں سے نکلنے کے لیے راہ و راستہ دکھاتا ہو جو کہتا ہے میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ
اور ہم اس کے رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔(سورہ ق: آیت ١٦)
واقعی آج کے اس دور میں انسان اپنے رب کو بھول چکا ہے ، جس رب نے اس دل کو بنایا اسمیں موجود پریشانیوں کو ہمیں اسی سے share کرنا چاہیے ناکہ رب کے تخلیق کردہ انسانوں سے ۔
یاد رکھیں یہ دنیا فریب ہے، دھوکا ہے ، جہاں کی ہر شئے محض کھیل و لعب ہے اور بس اتنا ہی کہ سمجھو یہ دنیا محض آزمائش ہںے کوئی غم کے ذریعے آزمایا جاتا ہںے تو کوئی خوشیوں کے ذریعے اور کوئی دونوں کے درمیان جس نے آزمائش پہچان لی اور صبر اور نماز سے اس کا حل تلاش کیا وہ کامیاب ہوگیا اور کامیابی بھی عظیم سب سے بڑی کامیابی ۔۔۔۔۔ پل صراط سے بجلی کی طرح گزر گیا اور جنت کی ابدی زندگی ۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھئے دوری ہمیشہ ہم اختیار کرتے ہیں ورنہ اللہ تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔۔۔۔۔۔

2 تبصرے
Masha Allah appi�� keep it up
جواب دیںحذف کریںJazakallah
جواب دیںحذف کریں