قناعت
قناعت کے معنی تھوڑی چیز پر خوش رہنا، جو مل جائے اس پر راضی رہنا۔ اس صفت سے متصف ہونے والا قانع کہلاتا ہے۔ ایسا شخص صابر، شاکر اور تھوڑے پر صبر و شکر کرنے والا اور ﷲ کی رضا میں راضی رہنے والا ہوتا ہے وہ فانی دنیا کی رنگینیوں میں نہیں پھنستا بلکہ آخرت کی کامیابی پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ شکر اور قناعت کا بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ شکر یہ نہایت ہی چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے بہت وسیع ہے۔ہم پر ﷲ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی ہر چھوٹی بڑی نعمت پر شکر کرنا لازم و واجب ہے۔ شکر انسان میں قناعت پیدا کرتا ہے اور قناعت ﷲ کی رضا میں راضی رہنا۔نعمت پر شکر کرنا، قناعت پسندی اور ﷲ پر بھروسہ و توکل ہی اسے دنیا و آخرت کی کامیابی دلا سکتی ہے۔ قناعت اعتدال و میانہ روی اور کفایت شعاری اختیار کرنا، اسراف سے بچنا، قناعت ایمان کی سچائی کی علامت ہے، نفس کی راحت کی راہ ہے، قناعت لالچ و ہوس کی ضد ہے۔ قناعت کرنے والا یعنی قانع دنیا میں رہتے ہوۓ دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر خود کو تباہ و برباد نہیں کرتا، فضول خرچی اور اسراف سے اجتناب کرتا ہے حرام سے پرہیز کرتے ہوئے حلال طریقے سے دنیا کے کام انجام دیتا ہے۔ اور ہر حال میں اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری میں اور اپنے رب کو راضی کرنے میں لگا رہتا ہے کیونکہ اس کی نگاہ آخرت کی کامیابی پر رہتی ہے۔ غرض یہ کہ قناعت اعلیٰ ترین انسانی صفات میں سے ہے، ﷲ کے نیک اور محبوب بندے ہی اس صفت سے متصف ہوتے ہیں اور ﷲ کی رضا پر راضی رہتے ہیں فانی دنیا کی رنگینیوں میں نہیں پھنستے بلکہ آخرت کی کامیابی پر ان کی نظر ہوتی ہے۔ جیسے کہ حدیث میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ : "وہ کامیاب ہو گیا، جو اسلام لایا، اسے ضرورت کے مطابق روزی دی گئی اور ﷲ تعالیٰ نے اسے اپنی عطا پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی۔" (صحیح مسلم 1055)
جو شخص قناعت کی دولت سے مالا مال ہونا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ ضرورت کے مطابق خرچ کرے۔ اس صفت والا بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے سے کم تر کو کو دیکھے، ﷲ کے کسی نعمت کو کم و حقیر نہ جانے اور ہر نعمت پر ﷲ کا شکر ادا کرے۔
جیسا کہ رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ : "اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم ﷲ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے۔" (سنن ابن ماجه : 4142)
اس کے علاوہ قناعت کی صفت سے متصف ہونے کے لئے صبر و اطمینان کرے، قناعت اطمینان کی جذباتی کیفیت ہے یعنی انسان اپنے نفس پر صبر کرے اور خواہشات کو کم کرے۔یادرکھیں ہر نفس کی خواہشات کا ایک نہ ایک دن اختتام ہے۔۔۔۔
یہ دنیا کی زندگی یہ خواہش، آرزوئیں، تمنائیں سب سامان فریب ہے جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا وہ خوش نصیب ہے اور جو انمیں الجھ گیا، پھنس گیا وہ ناکام و نا مراد ہے۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)
ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔
اس کے علاوہ قناعت پسند لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے کہ اس سے انسان بھی قناعت کی دولت سے مالا مال ہوگا اور قناعت پسندی انسان کو متقی بناتی ہے۔
اے ﷲ ہمیں قناعت پسند اور شکر و صابر بنا اور ﷲ کی راہ میں خرچ کرنے والا بنائے۔ آمین

0 تبصرے